صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۲ - وحی کی تصدیق اور مدد
پہلی وحی کے بعد خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلی اور ورقہ کی گواہی
صحیح بخاری : ۳۳۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۹۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : "فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَانْطَلَقَتْ بِهِ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ رَجُلًا تَنَصَّرَ يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ ، فَقَالَ : " وَرَقَةُ مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى وَإِنْ أَدْرَكَنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا النَّامُوسُ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي يُطْلِعُهُ بِمَا يَسْتُرُهُ عَنْ غَيْرِهِ " .
عائشہ روایت:
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (غار حراء سے) ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دھڑک رہا تھا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، وہ نصرانی ہو گئے تھے اور انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے۔ ورقہ نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ آپ نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہی ہیں وہ «ناموس» جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور اگر میں تمہارے زمانے تک زندہ رہا تو میں تمہاری پوری مدد کروں گا۔ «ناموس» محرم راز کو کہتے ہیں جو ایسے راز سے بھی آگاہ ہو جو آدمی دوسروں سے چھپائے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع وحی کی ابتدا اور تصدیق ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آئے تو آپ کا دل دھڑک رہا تھا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تو ورقہ نے کہا کہ یہ وہی ناموس ہیں جنہیں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا۔ پھر ورقہ نے کہا کہ اگر میں آپ کے زمانے تک زندہ رہا تو آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ اس حدیث میں پہلی وحی، ناموس وحی، خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مدد اور ورقہ بن نوفل کی تصدیق جیسے اہم موضوعات آتے ہیں۔ روایت کے آخر میں ناموس کا معنی بھی بتایا گیا ہے کہ وہ راز کا ساتھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا۔
- ورقہ بن نوفل نے ناموس وحی کو پہچانا۔
- وحی کا معاملہ اللہ کی طرف سے تھا، جسے ورقہ نے موسیٰ علیہ السلام کے ناموس سے ملایا۔
- مشکل لمحے میں سمجھ دار اور خیر خواہ شخص کے پاس جانا فائدہ دے سکتا ہے۔
