صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۱ - برکت کی طلب
ایوب علیہ السلام اور اللہ کی برکت: بندہ کبھی بے نیاز نہیں
صحیح بخاری : ۳۳۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۹۱
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى ، قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، وَلَكِنْ لَا غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو (سونے کی ٹڈیاں) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی برکت اور بندے کی محتاجی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایوب علیہ السلام غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ انہیں اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پکارا کہ اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بے پروا نہیں کر دیا جو تم دیکھ رہے ہو؟ ایوب علیہ السلام نے عرض کیا کہ کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے میں کیسے بے پروا ہو سکتا ہوں۔ اس حدیث میں برکت کی دعا، اللہ کی نعمت اور بندے کی عاجزی کا بہت خوبصورت بیان ہے۔ ایوب علیہ السلام نے مال کو اصل مقصود نہیں بنایا، بلکہ اللہ کی برکت کو نعمت سمجھا۔ یہ روایت یاد دلاتی ہے کہ انسان کے پاس کچھ بھی ہو، اسے اللہ کی برکت، فضل اور مدد کی ضرورت رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بندہ اللہ کی برکت سے کبھی بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
- نعمت ملے تو اسے اللہ کی عطا سمجھنا چاہیے۔
- ایوب علیہ السلام نے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کیا۔
- مال سے بڑھ کر اللہ کی برکت اہم ہے۔
