صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۰ - یوسف علیہ السلام کی پاکیزہ نسبت
یوسف علیہ السلام: شریف بن شریف بن شریف بن شریف
صحیح بخاری : ۳۳۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۹۰
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَام " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع یوسف علیہ السلام کی شرافت اور پاکیزہ نسبت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ اس مختصر حدیث میں یوسف علیہ السلام کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ وہ خود اللہ کے نبی تھے، ان کے والد یعقوب علیہ السلام بھی نبی تھے، ان کے دادا اسحاق علیہ السلام بھی نبی تھے، اور ان کے پردادا ابراہیم علیہ السلام بھی اللہ کے عظیم نبی تھے۔ اس لیے یوسف علیہ السلام کی حدیث، شریف بن شریف حدیث اور انبیاء کا نسب جیسے الفاظ اس روایت سے جڑے ہیں۔ اس روایت کا پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو نسب اور نبوت دونوں اعتبار سے بلند مقام عطا فرمایا۔ ہمیں انبیاء علیہم السلام کا ذکر ادب، احترام اور محبت کے ساتھ کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یوسف علیہ السلام کا نسب بہت پاکیزہ اور بلند ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام کی شرافت کو خاص طور پر بیان فرمایا۔
- انبیاء علیہم السلام کا ذکر احترام سے کرنا چاہیے۔
- فضیلت اللہ کی عطا ہے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔
