صحیح بخاری حدیث ۶۳۷۷ - دل، قرض اور فتنوں سے پناہ
فتنوں سے پناہ اور دل کو خطاؤں سے صاف کرنے کی دعا
صحیح بخاری : ۶۳۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۷۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْمَأْثَمِ ، وَالْمَغْرَمِ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار، وفتنة القبر وعذاب القبر، وشر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر، اللهم إني أعوذ بك من شر فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل قلبي بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياي، كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم إني أعوذ بك من الكسل، والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے فتنہ سے اور دوزخ کے عذاب سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کی بری آزمائش سے اور محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے۔اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑے کو میل سے صاف کرتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی دوری مشرق و مغرب میں ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، گناہ سے اور قرض سے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جامع دعا نقل ہوئی ہے۔ دعا میں دوزخ کے فتنے اور عذاب، قبر کے فتنے اور عذاب، مالداری کی بری آزمائش، محتاجی کی بری آزمائش، اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے پناہ مانگی گئی ہے۔ پھر اللہ سے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھونے، دل کو خطاؤں سے صاف کرنے، اور گناہوں سے دوری کی دعا ہے۔ آخر میں سستی، گناہ اور قرض سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اس حدیث میں دل کی اصلاح، گناہوں سے صفائی، اور فتنوں سے حفاظت ایک ساتھ جمع ہیں۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ انسان کو اپنے دل، عمل، مالی حالت، آخرت، اور آنے والی آزمائشوں کے بارے میں اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دل کو خطاؤں سے پاک کرنے کی دعا کرنی چاہیے۔
- قبر اور آگ کے فتنے اور عذاب سے پناہ مانگنا مسنون ہے۔
- مالداری اور محتاجی دونوں میں آزمائش ہو سکتی ہے۔
- سستی، گناہ اور قرض سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
