صحیح بخاری حدیث ۶۳۹۰ - بخل، بزدلی اور قبر کے عذاب سے پناہ
بخل اور قبر کے عذاب سے پناہ کی دعا
صحیح بخاری : ۶۳۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۹۰
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا تُعَلَّمُ الْكِتَابَةُ ، : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
سعد بن ابی وقاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جیسے لکھنا سکھاتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من البخل، وأعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك أن نرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بك من فتنة الدنيا، وعذاب القبر".» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جیسے لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ دعا میں بخل سے پناہ مانگی گئی، بزدلی سے پناہ مانگی گئی، بہت کمزور عمر کی طرف لوٹائے جانے سے پناہ مانگی گئی، دنیا کی آزمائش سے پناہ مانگی گئی، اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا یاد کرنے کے قابل ہے۔ بخل انسان کے دل کو تنگ کرتا ہے، بزدلی عمل کو روک سکتی ہے، اور دنیا کی آزمائش انسان کو غفلت میں ڈال سکتی ہے۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ بندہ اپنی کمزوریوں اور آنے والی مشکلوں سے اللہ کی پناہ مانگے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بخل اور بزدلی جیسی کمزوریوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- دنیا کی آزمائش سے بچنے کے لیے دعا کرنا نبوی تعلیم ہے۔
- قبر کے عذاب سے پناہ مانگنا اہم دعا ہے۔
- اہم دعاؤں کو بار بار سیکھنا اور یاد رکھنا چاہیے۔
