صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۴ - معراج اور فطرت کا انتخاب

معراج کی رات دودھ کا انتخاب: فطرت کی طرف رہنمائی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۹۴

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَأَيْتُ مُوسَى وَإِذَا هُوَ رَجُلٌ ضَرْبٌ رَجِلٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ ، فَقَالَ : اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ ، فَقِيلَ : أَخَذْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنوہ میں سے ہوں اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے۔ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے۔ میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا (دودھ آدمی کی پیدائشی غذا ہے) اگر اس کے بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔

صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع معراج اور فطرت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، اور فرمایا کہ میں ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر آپ کے سامنے دو برتن لائے گئے؛ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ جسے چاہیں پی لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ لیا اور پی لیا۔ پھر کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر آپ شراب لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ اس حدیث میں معراج کی حدیث، دودھ اور شراب کا انتخاب، فطرت کی حدیث اور امت کی رہنمائی جیسے مضامین ہیں۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب پاکیزہ اور فطرت کے مطابق تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو اختیار فرمایا۔
  • دودھ کے انتخاب کو فطرت اختیار کرنا کہا گیا۔
  • اس روایت میں موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کا ذکر آیا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب امت کے لیے خیر کا سبب بتایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں