صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۵ - انبیاء کے ادب کا سبق

یونس بن متی علیہ السلام کے بارے میں ادب: میں بہتر ہوں نہ کہا جائے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۹۵

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ ، يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کو یوں نہ کہنا چاہئے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ان کے والد کی طرف منسوب کر کے لیا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع انبیاء علیہم السلام کا ادب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونس علیہ السلام کو ان کے والد کی طرف نسبت کے ساتھ ذکر فرمایا۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں بڑا سبق ہے۔ انبیاء کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ہے، اس لیے ان کے بارے میں بے ادبی یا اپنی طرف سے فضیلت جتانے والی بات سے بچنا چاہیے۔ یونس علیہ السلام کی حدیث، انبیاء کا ادب اور یونس بن متی جیسے الفاظ اسی روایت کے اصل موضوعات ہیں۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ زبان کو قابو میں رکھا جائے اور اللہ کے نبیوں کا ذکر احترام کے ساتھ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یونس بن متی علیہ السلام کے بارے میں فضیلت جتانے والی بات سے منع کیا گیا۔
  • انبیاء علیہم السلام کا ذکر ادب کے ساتھ کرنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونس علیہ السلام کو ان کے والد کی نسبت سے یاد فرمایا۔
  • زبان کی احتیاط ایمان والے کے لیے اہم ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں