صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۶ - معراج میں انبیاء کا ذکر
معراج کی رات موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر
صحیح بخاری : ۳۳۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۹۶
وَذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ، فَقَالَ : مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَقَالَ : عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَذَكَرَ الدَّجَّالَ " .
´اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ` موسیٰ علیہ السلام گندم گوں اور دراز قد تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے قبیلہ شنوہ کے کوئی صاحب ہوں اور فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام گھنگریالے بال والے اور میانہ قد کے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داروغہ جہنم مالک کا بھی ذکر فرمایا اور دجال کا بھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع معراج کی رات کے مشاہدات ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ گندم گوں اور دراز قد تھے، جیسے قبیلہ شنوہ کے کوئی شخص ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ گھنگریالے بالوں والے اور میانہ قد کے تھے۔ اسی روایت میں مالک، جو جہنم کے داروغہ ہیں، اور دجال کا بھی ذکر آیا ہے۔ یہ حدیث معراج کی حدیث، موسیٰ علیہ السلام کا حلیہ، عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ، مالک خازن النار اور دجال کے ذکر سے متعلق ہے۔ روایت میں صرف اتنی ہی بات بیان ہوئی ہے، اس لیے اسی حد تک بات کرنا درست ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کے کچھ مشاہدات صحابہ کے سامنے بیان فرمائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کے بعض مشاہدات بیان فرمائے۔
- روایت میں موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے حلیے کا ذکر ہے۔
- مالک خازن النار اور دجال کا ذکر بھی اسی روایت میں آیا ہے۔
- حدیث کی بات کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے جتنی روایت میں آئی ہے۔
