صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۶ - میں یونس بن متی سے افضل ہوں نہ کہو
یونس بن متی علیہ السلام کا ادب: نبی صلى الله عليه وسلم کی واضح تعلیم
صحیح بخاری : ۳۴۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے یہ کہنا لائق نہیں کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ کہنا لائق نہیں کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ بات بار بار مختلف روایات میں آئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے بارے میں زبان کا معاملہ بہت نازک ہے۔ حدیث کا اصل مطلب یہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ کسی نبی کے ذکر میں ایسا انداز نہ اپنایا جائے جس میں دوسرے نبی کی تحقیر کا پہلو نکلے۔ یونس علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں۔ اس لیے مسلمان کو فضائل کے بیان میں ادب، نرمی اور احتیاط رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بے احتیاط الفاظ سے بچنا چاہیے۔
- یونس بن متی علیہ السلام کی عزت حدیث میں صاف بیان ہوئی ہے۔
- فضائل بیان کرتے وقت کسی نبی کی کمی ظاہر نہ ہو۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کو ادب والی زبان سکھائی۔
