صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۵ - یونس بن متی علیہ السلام کی فضیلت کا ادب
یونس بن متی علیہ السلام کے بارے میں محتاط زبان کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱۵
وَلَا أَقُولُ إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
اور میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کوئی شخص یونس بن متی سے بہتر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۵ کا خلاصہ
یہ مختصر روایت ایک بڑی بات سمجھاتی ہے۔ الفاظ یہ ہیں کہ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کوئی شخص یونس بن متی سے بہتر ہے۔ اس میں اصل توجہ انبیاء علیہم السلام کے ادب پر ہے۔ بعض اوقات لوگ محبت میں ایسے جملے بول دیتے ہیں جن میں دوسرے نبی کے بارے میں کمی کا تاثر آ سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز سے بچنے کی تعلیم دی۔ یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں، اس لیے ان کا ذکر عزت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ دینی محبت کو ادب کے ساتھ جوڑا جائے۔ فضائل بیان ہوں، مگر زبان ایسی نہ ہو جس سے کسی نبی کی شان کم لگے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یونس بن متی علیہ السلام کا ذکر احترام کے ساتھ کرنا چاہیے۔
- محبت میں بھی زبان حد سے نہ بڑھے۔
- انبیاء علیہم السلام کے بارے میں مقابلہ بازی والا انداز مناسب نہیں۔
- مختصر حدیث بھی اہم اخلاقی سبق دے سکتی ہے۔
