صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۹ - بنی اسرائیل اور حوا کا ذکر
بنی اسرائیل، گوشت اور حوا کے بارے میں حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۹۹
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے (سلویٰ کا گوشت جمع کر کے نہ رکھتے) تو گوشت کبھی نہ سڑتا۔ اور اگر حوا نہ ہوتیں (یعنی آدم علیہ السلام سے دغا نہ کرتیں) تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت کبھی نہ کرتی۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بنی اسرائیل اور حوا کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کبھی نہ سڑتا۔ ترجمے میں بتایا گیا کہ انہوں نے سلویٰ کا گوشت جمع کر کے رکھا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت کبھی نہ کرتی۔ اس حدیث میں بنی اسرائیل کی حدیث، گوشت سڑنے کی حدیث، حوا کا ذکر اور شوہر بیوی کے معاملے کا بیان آتا ہے۔ اس روایت کو اپنی طرف سے بڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ حدیث کے الفاظ مخصوص ہیں۔ اس میں پچھلی امت کے ایک واقعے اور حوا کے ذکر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔ بندے کے لیے بہتر یہ ہے کہ حدیث کو ادب سے پڑھے، اس کے الفاظ کو مانے، اور غیر ضروری سخت یا عمومی باتیں اپنی طرف سے نہ جوڑے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں بنی اسرائیل کے ایک عمل کے ساتھ گوشت کے بدلنے کا ذکر آیا ہے۔
- روایت میں حوا کا ذکر شوہر بیوی کے معاملے کے ساتھ کیا گیا ہے۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے سخت حکم نہیں لگانا چاہیے۔
- پچھلی امتوں کے واقعات میں ہمارے لیے سوچنے کا پہلو ہوتا ہے۔
