صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۸ - قیامت کی بے ہوشی
قیامت کے دن بے ہوشی اور موسیٰ علیہ السلام کا عرش کے پاس ہونا
صحیح بخاری : ۳۳۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۹۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " النَّاسُ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے ‘ پھر سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں گے یا (بیہوش ہی نہیں کئے گئے ہوں گے بلکہ) انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کا بدلہ ملا ہو گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قیامت کا دن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔ پھر سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں گے یا انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کا بدلہ ملا ہو گا۔ یہ حدیث قیامت کی بے ہوشی، موسیٰ علیہ السلام، عرش اور کوہ طور کے ذکر سے متعلق ہے۔ روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کا علم نہ ہونے کا ذکر فرمایا، اسے اسی طرح ماننا چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ جہاں علم نہ ہو وہاں اندازہ لگا کر حتمی بات نہیں کہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن لوگوں پر بے ہوشی طاری ہو گی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کو عرش کے پایہ تھامے دیکھنے کا ذکر فرمایا۔
- جس بات کا علم نہ ہو، اس میں حتمی دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
- حدیث کے الفاظ کو احتیاط کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
