صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۲ - خضر علیہ السلام کے نام کی وجہ

خضر علیہ السلام کا نام خضر کیوں پڑا؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۰۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبِهَانِيِّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ مِنْ خَلْفِهِ خَضْرَاءَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خضر علیہ السلام کا یہ نام اس وجہ سے ہوا کہ وہ ایک سوکھی زمین (جہاں سبزی کا نام بھی نہ تھا) پر بیٹھے۔ لیکن جوں ہی وہ وہاں سے اٹھے تو وہ جگہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع خضر علیہ السلام کے نام کی وجہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خضر علیہ السلام کا یہ نام اس وجہ سے ہوا کہ وہ ایک سفید، سوکھی زمین پر بیٹھے۔ پھر جب وہ وہاں سے اٹھے تو وہ جگہ ان کے پیچھے سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔ روایت میں خضر علیہ السلام، نام کی وجہ، سوکھی زمین اور سرسبز ہونے کا صاف ذکر ہے۔ اس حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک خاص بات بیان کی گئی ہے کہ ان کے نام کا تعلق اس واقعے سے ہے۔ خضر علیہ السلام کی حدیث تلاش کرنے والے عموماً یہ پوچھتے ہیں کہ خضر کا مطلب کیا ہے یا خضر علیہ السلام کا نام کیوں رکھا گیا۔ اس روایت کا جواب بہت مختصر اور واضح ہے: جہاں وہ بیٹھے، وہ سوکھی جگہ اللہ کے حکم سے سرسبز ہو گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خضر علیہ السلام کے نام کی وجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی۔
  • روایت میں سوکھی جگہ کے سرسبز ہونے کا ذکر آیا ہے۔
  • حدیث کے مختصر بیان کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
  • خضر علیہ السلام کا ذکر احترام کے ساتھ کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں