صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۳ - بنی اسرائیل کی نافرمانی اور حکم بدلنے کا انجام
حکم الٰہی کی اطاعت: بنی اسرائیل کی نافرمانی کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۰۳
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ وَقَالُوا حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ بیت المقدس میں سجدہ و رکوع کرتے ہوئے داخل ہوں اور یہ کہتے ہوئے کہ یا اللہ! ہم کو بخش دے۔ لیکن انہوں نے اس کو الٹا کیا اور اپنے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور یہ کہتے ہوئے «حبة في شعرة» (یعنی بالیوں میں دانے خوب ہوں) داخل ہوئے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۳ کا خلاصہ
یہ حدیث ہمیں بہت سیدھی بات سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنا درست نہیں۔ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ دروازے میں عاجزی کے ساتھ داخل ہوں اور بخشش کی دعا کریں۔ مگر انہوں نے عمل کا انداز بھی بدل دیا اور الفاظ بھی بدل دیے۔ اصل سبق یہ ہے کہ دین میں حکم الٰہی کی اطاعت دل، زبان اور عمل تینوں سے ہوتی ہے۔ نافرمانی صرف یہ نہیں کہ انسان حکم چھوڑ دے، کبھی حکم کو مذاق یا کھیل بنا دینا بھی بڑی غلطی بن جاتا ہے۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ استغفار، توبہ اور اللہ سے معافی کو سنجیدگی سے لے، نہ کہ دین کے الفاظ اور اعمال کو اپنی خواہش کے مطابق بدل دے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے حکم کو بدلنا نافرمانی کا راستہ ہے۔
- بخشش مانگتے وقت عاجزی اور سنجیدگی ضروری ہے۔
- دینی الفاظ اور اعمال کے ساتھ کھیل نہیں کرنا چاہیے۔
- زبان اور عمل دونوں میں اطاعت دکھائی دینی چاہیے۔
