صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۹ - جہنم کا سوال
جہنم کا سوال: کیا کچھ اور بھی ہے؟ حدیث کی تشریح
صحیح بخاری : ۴۸۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۴۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يُوقِفُهُ أَبُو سُفْيَانَ : " يُقَالُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ ؟ ، وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ ، فَيَضَعُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدَمَهُ عَلَيْهَا ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ " .
ابوہریرہ روایت:
´ہم سے محمد بن موسیٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوسفیان حمیری سعید بن یحییٰ بن مہدی نے بیان کیا، ان سے عوف نے، ان سے محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ابوسفیان حمیری اکثر اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موقوفاً ذکر کرتے تھے کہ جہنم سے پوچھا جائے گا تو بھر بھی گئی؟ وہ کہے گی «هل من مزيد..» کہ کچھ اور بھی ہے؟ پھر اللہ تبارک تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا اور کہے گی کہ بس بس۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۹ کا خلاصہ
اس روایت میں جہنم کے بارے میں وہی مضمون آیا ہے جو انسان کے دل میں آخرت کا ڈر پیدا کرتا ہے۔ حدیث میں بتایا گیا کہ جہنم سے پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا، تو وہ کہے گی: بس بس۔ یہ بات اس انداز سے بیان ہوئی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو صرف دنیا تک محدود نہ سمجھے۔ جہنم کا سوال، دوزخ کا بھرنا، اور آخرت کی جواب دہی ایسے موضوعات ہیں جنہیں سن کر دل کو نرم ہونا چاہیے۔ اس حدیث میں تفصیل اتنی ہی ہے جتنی متن میں آئی ہے؛ اس لیے اس کے بارے میں اضافی قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیے۔ اصل سبق یہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے پناہ مانگی جائے اور عمل کی اصلاح کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخرت کا معاملہ سنجیدہ ہے، اسے بھولنا نہیں چاہیے۔
- جہنم کے بارے میں حدیث کے الفاظ تک رہنا بہتر ہے۔
- اللہ تعالیٰ کا حکم ہر چیز پر غالب ہے۔
- انسان کو اپنے عمل کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔
