صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۸ - جہنم کا بھرنا
جہنم کا بھرنا: هل من مزید والی حدیث کا آسان مطلب
صحیح بخاری : ۴۸۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۴۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُلْقَى فِي النَّارِ ، وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم میں دوزخیوں کو ڈالا جائے گا اور وہ کہے گی «هل من مزيد..» کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس پر رکھے گا اور وہ کہے گی کہ بس بس۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۸ کا خلاصہ
یہ حدیث آخرت کے ایک بڑے منظر کو بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ دوزخیوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا، پھر جہنم کہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ یہ الفاظ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ جہنم کا معاملہ معمولی نہیں۔ حدیث کے آخر میں آیا کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس پر رکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس۔ اس طرح جہنم رک جائے گی۔ اس حدیث میں ہمیں جہنم، آخرت، اور اللہ کے حکم کی قدرت کا ذکر ملتا ہے۔ اس کی تفصیل میں اپنی طرف سے باتیں بڑھانا درست نہیں؛ جو الفاظ آئے ہیں، انہیں اسی طرح مانا جاتا ہے۔ عام مسلمان کے لیے اس کا سیدھا پیغام یہ ہے کہ آخرت کو سنجیدہ سمجھا جائے اور گناہ سے بچنے کی فکر کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جہنم کا ذکر انسان کو آخرت کی فکر دلاتا ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں اپنی طرف سے تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔
- اللہ کے حکم کے سامنے ہر چیز رک جاتی ہے۔
- گناہ کے انجام کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
