صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۰ - جنت اور دوزخ

جنت اور دوزخ کی بحث: رحمت، عذاب اور اللہ کا عدل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۵۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي ، أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَقَالَ لِلنَّارِ : إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي ، أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ رِجْلَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا ، وَأَمَّا الْجَنَّةُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت اور دوزخ نے بحث کی، دوزخ نے کہا میں متکبروں اور ظالموں کے لیے خاص کی گئی ہوں۔ جنت نے کہا مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور اور کم رتبہ والے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعہ میں اپنے بندوں میں جس پر چاہوں رحم کروں اور دوزخ سے کہا کہ تو عذاب ہے تیرے ذریعہ میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دوں۔جنت اور دوزخ دونوں بھریں گی۔ دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا قدم اس نہیں رکھ دے گا۔ اس وقت وہ بولے گی کہ بس بس بس! اور اس وقت بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض دوسرے حصے پر چڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جنت کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مخلوق پیدا کرے گا «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے چھپنے سے پہلے۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۰ کا خلاصہ

یہ حدیث جنت اور دوزخ کے بارے میں بہت اہم بات بتاتی ہے۔ دوزخ نے کہا کہ میرے اندر متکبر اور ظالم لوگ ہوں گے، جبکہ جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور کم رتبہ والے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں جس پر چاہوں رحم کروں گا۔ دوزخ سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے میں جسے چاہوں عذاب دوں گا۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اللہ اپنے بندوں میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اس لیے جنت اور دوزخ کی حدیث ہمیں غرور سے بچنے، ظلم سے دور رہنے، اور اللہ کی رحمت کی امید رکھنے کا سبق دیتی ہے۔ متن میں آخرت کے بارے میں جو بات آئی ہے اسی پر ایمان رکھنا چاہیے، اپنی طرف سے تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تکبر اور ظلم دوزخ کے ذکر کے ساتھ آئے ہیں، اس لیے ان سے بچنا چاہیے۔
  • جنت اللہ کی رحمت کا مقام ہے۔
  • اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
  • آخرت کے معاملات میں حدیث کے الفاظ کا احترام ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں