صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۱ - رب کی رؤیت
رب کی رؤیت اور فجر عصر نماز: چاند والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۵۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ، ثُمَّ قَرَأَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39 " .
جریر بن عبداللہ روایت:
ہم ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے چودہویں رات تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا کہ یقیناً تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔اس کی رؤیت میں تم دھکم پیل نہیں کرو گے (بلکہ بڑے اطمینان سے ایک دوسرے کو دھکا دیئے بغیر دیکھو گے) اس لیے اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز نہ چھوڑو۔ پھر آپ نے آیت «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے آفتاب نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے۔“ کی تلاوت کی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اور اس کی رؤیت میں دھکم پیل نہیں ہوگی۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں کا خاص خیال رکھنے کی ترغیب دی۔ یہاں اصل مضمون رب کی رؤیت، فجر کی نماز، اور عصر کی نماز سے جڑا ہوا ہے۔ حدیث کا انداز بہت صاف ہے: ایمان والے آخرت کی ایک بڑی نعمت پر یقین رکھتے ہیں اور دنیا میں نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سمجھانے کے لیے سامنے موجود چیز کی مثال دیتے تھے، تاکہ بات دل میں اتر جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخرت میں رب کی رؤیت ایمان والوں کے لیے بڑی نعمت ہے۔
- فجر اور عصر کی نماز کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم تعلیم میں آسان اور واضح مثال دیتے تھے۔
- نماز کی پابندی آخرت کی امید سے جوڑ کر سمجھائی گئی ہے۔
