صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۲ - نماز کے بعد تسبیح
نماز کے بعد تسبیح: وأدبار السجود کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۵۲
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " أَمَرَهُ أَنْ يُسَبِّحَ فِي أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا ، يَعْنِي قَوْلَهُ :وَأَدْبَارَ السُّجُودِ سورة ق آية 40 .
مجاہد روایت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ آپ کا مقصد اللہ تعالیٰ کا ارشاد «وأدبار السجود» کی تشریح کرنا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۲ کا خلاصہ
یہ روایت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے۔ مجاہدؒ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباسؓ نے تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھنے کا حکم دیا، اور اس سے آیت وأدبار السجود کی تشریح مراد تھی۔ اس حدیث میں نماز کے بعد تسبیح، ذکر بعد نماز، اور اللہ کی یاد کا مضمون سامنے آتا ہے۔ یہاں کسی خاص تعداد کا ذکر نہیں، اس لیے اس روایت سے صرف اتنی بات لی جائے گی کہ نماز کے بعد اللہ کی تسبیح کرنا پسندیدہ عمل کے طور پر بیان ہوا ہے۔ دین میں چھوٹی بات بھی جب قرآن کی سمجھ سے جڑ جائے تو دل کو عبادت کی طرف مائل کرتی ہے۔ عام مسلمان کے لیے آسان سبق یہ ہے کہ فرض نماز کے بعد جلدی اٹھنے کے بجائے کچھ وقت اللہ کی یاد میں لگایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے بعد تسبیح کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- قرآنی آیت کی سمجھ صحابہ سے لی جاتی ہے۔
- عبادت کے بعد اللہ کو یاد کرنا دل کو دین سے جوڑتا ہے۔
- جہاں تعداد نہ آئے وہاں اپنی طرف سے تعداد لازم نہ کہی جائے۔
