صحیح بخاری حدیث ۸۴۱ - فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر

فرض نماز کے بعد ذکر کی حدیث اور اس کا آسان مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۴۱

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

بلند آواز سے ذکر، فرض نماز سے فارغ ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جاری تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۸۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام فرض نماز کے بعد ذکر ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں جب لوگ فرض نماز سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے بعد ذکر کوئی معمولی چیز نہیں، بلکہ صحابہ کے عمل میں موجود ایک واضح دینی عادت تھی۔ یہاں بات خاص طور پر فرض نماز کے بعد کے ذکر کی ہے، جیسے اللہ کی بڑائی، پاکی اور حمد بیان کرنا۔ اس حدیث میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ ذکر نماز ختم ہونے کی پہچان بن جاتا تھا۔ اس لیے جو شخص نماز کے بعد دعا اور ذکر کو اہم سمجھتا ہے، وہ اس حدیث سے ایک آسان اور سیدھا سبق لے سکتا ہے کہ نماز کے بعد فوراً دنیاوی باتوں میں نہ لگے، پہلے اللہ کو یاد کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فرض نماز کے بعد اللہ کا ذکر کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں موجود عمل تھا۔
  • نماز کے بعد ذکر سے اللہ کی یاد تازہ رہتی ہے۔
  • صحابہ نماز کے اختتام کو ذکر کی آواز سے پہچان لیتے تھے۔
  • حدیث کا focus فرض نماز کے بعد کے ذکر پر ہے، عام گفتگو پر نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں