صحیح بخاری حدیث ۸۴۲ - نماز کے بعد تکبیر سے اختتام کی پہچان

نماز کے بعد تکبیر کی حدیث: اللہ اکبر کی آواز کا مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۴۲

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ " .

ابن عباس روایت:

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کو تکبیر ( «الله اكبر») کی وجہ سے سمجھ جاتا تھا۔ علی بن مدینی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو کے حوالے سے بیان کیا کہ ابومعبد ابن عباس کے غلاموں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے۔ علی بن مدینی نے بتایا کہ ان کا نام نافذ تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۸۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز ختم ہونے کو تکبیر یعنی «اللہ اکبر» کی وجہ سے جان لیتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرض نماز کے بعد اللہ کی بڑائی بیان کی جاتی تھی، اور یہ عمل اتنا واضح تھا کہ سننے والا سمجھ جاتا کہ نماز مکمل ہو چکی ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز کے بعد تکبیر اور ذکر ہے۔ اسے عام فہم انداز میں یوں سمجھیں کہ نماز ختم ہوتے ہی بندہ اپنے رب کی عظمت کا اعلان کرتا ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک صاف بات ہے کہ نماز کے بعد اللہ اکبر کہنا صحابہ کے مشاہدے میں موجود تھا۔ جو لوگ نماز کے بعد اذکار تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث ایک مختصر مگر مضبوط رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے بعد «اللہ اکبر» کہنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔
  • ذکر کی آواز نماز کے اختتام کی پہچان بن سکتی تھی۔
  • تکبیر میں اللہ کی بڑائی کا اقرار ہے۔
  • حدیث نماز کے بعد کے ذکر کو نمایاں کرتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں