صحیح بخاری حدیث ۸۴۳ - ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ تسبیح

ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ تسبیح، تحمید اور تکبیر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۴۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَا وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَلَهُمْ فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ يَحُجُّونَ بِهَا وَيَعْتَمِرُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ ، قَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَمْرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ ، إِلَّا مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُكَبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا ، فَقَالَ : بَعْضُنَا نُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : تَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ حَتَّى يَكُونَ مِنْهُنَّ كُلِّهِنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " .

ابوہریرہ روایت:

نادار لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ امیر و رئیس لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت حاصل کر چکے حالانکہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں لیکن مال و دولت کی وجہ سے انہیں ہم پر فوقیت حاصل ہے کہ اس کی وجہ سے وہ حج کرتے ہیں۔ عمرہ کرتے ہیں۔جہاد کرتے ہیں اور صدقے دیتے ہیں (اور ہم محتاجی کی وجہ سے ان کاموں کو نہیں کر پاتے) اس پر آپ نے فرمایا کہ لو میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں انہیں تم پالو گے اور تمہارے مرتبہ تک پھر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور تم سب سے اچھے ہو جاؤ گے سوا ان کے جو یہی عمل شروع کر دیں ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح «سبحان الله»، تحمید «الحمد لله»، تکبیر «الله أكبر» کہا کرو۔پھر ہم میں اختلاف ہو گیا کسی نے کہا کہ ہم تسبیح «سبحان الله» تینتیس مرتبہ، تحمید «الحمد لله» تینتیس مرتبہ اور تکبیر «الله أكبر» چونتیس مرتبہ کہیں گے۔ میں نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «سبحان الله»، «الحمد لله» اور «الله أكبر» کہو تاآنکہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہو جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۸۴۳ کا خلاصہ

یہ حدیث نماز کے بعد اذکار کے بارے میں بہت واضح تعلیم دیتی ہے۔ کچھ نادار صحابہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ مالدار لوگ نماز اور روزے میں ہمارے ساتھ ہیں، مگر مال کی وجہ سے حج، عمرہ، جہاد اور صدقہ بھی کرتے ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں ایک ایسا عمل بتایا جو ان کے لیے آسان تھا: ہر نماز کے بعد «سبحان اللہ»، «الحمدللہ» اور «اللہ اکبر» تینتیس تینتیس مرتبہ کہنا۔ اس حدیث کا اصل موضوع 33 تسبیح بعد نماز ہے۔ اس میں خاص بات یہ ہے کہ دین میں صرف مال خرچ کرنا ہی نیکی کا راستہ نہیں، بلکہ زبان سے اللہ کا ذکر بھی بندے کے لیے بڑا عمل ہے۔ یہاں تسبیح، تحمید اور تکبیر کی تعداد بھی متن میں صاف آئی ہے، اس لیے اسے اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر نماز کے بعد سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر 33، 33 مرتبہ کہنا سکھایا گیا۔
  • نادار شخص بھی ذکر کے ذریعے نیکی میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
  • صحابہ دین کے کاموں میں سبقت کی فکر رکھتے تھے۔
  • عمل کی تعداد حدیث کے متن کے مطابق بیان کرنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں