صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۸ - سونے سے پہلے تسبیح فاطمہ
تسبیح فاطمہ: سونے سے پہلے اللہ کا ذکر
صحیح بخاری : ۶۳۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱۸
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَام شَكَتْ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَجِدْهُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ قَالَ : فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ أَقُومُ ، فَقَالَ : مَكَانَكِ ، فَجَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي ، فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ؟ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا أَوْ أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا ، فَكَبِّرَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَهَذَا خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ " ، وعَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : التَّسْبِيحُ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ .
علی روایت:
فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی تکلیف کی وجہ سے کہ ان کے مبارک ہاتھ کو صدمہ پہنچتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم مانگنے کے لیے حاضر ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہیں تھے۔ اس لیے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا۔ جب آپ تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ہم اس وقت تک اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں کھڑا ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتا دوں جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہو۔ جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو تینتیس (33) مرتبہ «الله اكبر» کہو، تینتیس (33) مرتبہ «سبحان الله» کہو اور تینتیس (33) مرتبہ «الحمد الله» کہو، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے اور شعبہ سے روایت ہے ان سے خالد نے، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا کہ سبحان اللہ چونتیس (34) مرتبہ کہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے کام کی مشقت کا ذکر ہے۔ وہ خادم مانگنے کے لیے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئیں، مگر آپ گھر پر موجود نہ تھے۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم کو بات پہنچی تو آپ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس رات کو تشریف لائے، جب وہ اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم دونوں کو خادم سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب بستر پر جاؤ تو 33 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمد للہ کہو۔ ایک روایت میں سبحان اللہ 34 مرتبہ کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق سونے سے پہلے ذکر کی اہمیت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشقت کے وقت اللہ کا ذکر دل کو سہارا دیتا ہے۔
- سونے سے پہلے تسبیح، تحمید اور تکبیر کا ذکر سکھایا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس ذکر کو خادم سے بہتر فرمایا۔
- گھر کے حالات میں بھی ذکر کا معمول قائم رکھا جا سکتا ہے۔
