صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۵ - سونے سے پہلے تسبیح فاطمہؓ
تسبیح فاطمہؓ: سونے سے پہلے پڑھنے والا مسنون ذکر
صحیح بخاری : ۳۷۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۰۵
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام شَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَا , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ ، فَلَمْ تَجِدْهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ ، فَقَالَ : " عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي ، وَقَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ " .
علی روایت:
فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں لیکن آپ موجود نہیں تھے۔عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے، اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو، اس کے بعد آپ ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی،۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں، جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو، یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہتر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تسبیح فاطمہؓ اور سونے سے پہلے ذکر ہے۔ حضرت فاطمہؓ کو چکی پیسنے سے تکلیف ہوتی تھی، اس لیے انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے خادم کے بارے میں بات کرنا چاہی۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم کو خبر ہوئی تو آپ خود حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے۔ دونوں بستر پر لیٹ چکے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں اٹھنے سے منع کیا اور بہت قریب بیٹھ کر فرمایا کہ میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے سونے کے وقت 34 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمدللہ پڑھنے کی تعلیم دی۔ یہ تسبیح فاطمہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ گھر کی مشقت کے وقت بھی ذکرِ الٰہی دل کو سہارا دیتا ہے۔ حدیث میں خادم کے بجائے اس ذکر کو بہتر فرمایا گیا ہے، اس لیے یہ عمل خاص طور پر سونے سے پہلے اذکار میں اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونے سے پہلے اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمدللہ پڑھنا مسنون عمل ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اہل بیت کو مشکل وقت میں ذکر کی طرف رہنمائی فرمائی۔
- گھر کی محنت اور تھکن کے باوجود اللہ کا ذکر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
- دینی رہنمائی کبھی کبھی ہماری مانگی ہوئی چیز سے بہتر راستہ دکھاتی ہے۔
