صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۴ - حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے محاسن
حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے فضائل: صحابہ کا احترام
صحیح بخاری : ۳۷۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۰۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ عُثْمَانَ فَذَكَرَ عَنْ مَحَاسِنِ عَمَلِهِ ، قَالَ : لَعَلَّ ذَاكَ يَسُوءُكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْ عَلِيٍّ فَذَكَرَ مَحَاسِنَ عَمَلِهِ ، قَالَ : هُوَ ذَاكَ بَيْتُهُ أَوْسَطُ بُيُوتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : لَعَلَّ ذَاكَ يَسُوءُكَ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : فَأَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ انْطَلِقْ فَاجْهَدْ عَلَيَّ جَهْدَكَ " .
سعد بن عبیدہ روایت:
ایک شخص عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے محاسن کا ذکر کیا، پھر کہا کہ شاید یہ باتیں تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا جی ہاں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے پھر اس نے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، انہوں نے ان کے بھی محاسن ذکر کئے اور کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کا گھرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا نہایت عمدہ گھرانہ ہے، پھر کہا شاید یہ باتیں بھی تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا کہ جی ہاں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے، جا، اور میرا جو بگاڑنا چاہے بگاڑ لینا، کچھ کمی نہ کرنا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع صحابہ کرام کے فضائل اور ان کا احترام ہے۔ ایک شخص عبداللہ بن عمرؓ کے پاس آیا اور حضرت عثمانؓ کے بارے میں پوچھا۔ ابن عمرؓ نے ان کے اچھے اعمال اور محاسن بیان کیے۔ جب اس شخص نے ناپسندیدگی ظاہر کی تو ابن عمرؓ نے سخت انداز میں اس کی بات رد کی۔ پھر اس نے حضرت علیؓ کے بارے میں پوچھا۔ ابن عمرؓ نے حضرت علیؓ کے محاسن بھی بیان کیے اور فرمایا کہ ان کا گھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے گھرانوں میں بہت عمدہ گھرانہ ہے۔ اس روایت میں عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل، علی رضی اللہ عنہ کے فضائل، اور صحابہ کی عزت کا واضح پیغام ملتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کسی صحابی کے بارے میں دل میں بغض رکھ کر سوال کرنا درست رویہ نہیں۔ حق بات وہی ہے جو عدل اور احترام کے ساتھ کہی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام کے محاسن کو انصاف کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔
- حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ دونوں کے فضائل اس روایت میں واضح طور پر ذکر ہوئے ہیں۔
- بغض کے ساتھ سوال کرنے سے آدمی حق بات قبول نہیں کر پاتا۔
- اہل علم کا کام یہ ہے کہ وہ ناپسندیدگی کے باوجود حق بات صاف بیان کریں۔
