صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۷ - تہجد کی جامع دعا
تہجد کی دعا: حمد، ایمان، توکل اور مغفرت
صحیح بخاری : ۶۳۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے «اللهم لك الحمد، أنت نور السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد، أنت الحق ووعدك حق، وقولك حق، ولقاؤك حق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق، والنبيون حق، ومحمد حق، اللهم لك أسلمت وعليك توكلت وبك آمنت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت، وما أعلنت، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں تو آسمان و زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کا نور ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں تو آسمان اور زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کا قائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیرا قول حق ہے، تجھ سے ملنا حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں۔ اے اللہ! تیرے سپرد کیا، تجھ پر بھروسہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری طرف رجوع کیا، دشمنوں کا معاملہ تیرے سپرد کیا، فیصلہ تیرے سپرد کیا، پس میری اگلی پچھلی خطائیں معاف کر۔ وہ بھی جو میں نے چھپ کر کی ہیں اور وہ بھی جو کھل کر کی ہیں تو ہی سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے، صرف تو ہی معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۱۷ کا خلاصہ
یہ حدیث تہجد کے وقت پڑھی جانے والی ایک جامع دعا بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ کی حمد کرتے، اسے آسمانوں اور زمین کا نور اور قائم رکھنے والا مانتے، پھر حق باتوں کا اقرار کرتے: اللہ حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کا قول حق ہے، ملاقات حق ہے، جنت، دوزخ، قیامت، انبیاء اور محمد صلى الله عليه وسلم حق ہیں۔ پھر دعا میں بندہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لیے اسلام قبول کیا، تجھ پر بھروسہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری طرف رجوع کیا، اور تجھ ہی سے فیصلہ چاہا۔ آخر میں اگلی، پچھلی، چھپی اور کھلی خطاؤں کی مغفرت مانگی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تہجد کی دعا میں اللہ کی حمد سے آغاز کیا گیا ہے۔
- ایمان کے بنیادی حقائق کا صاف اقرار کیا گیا ہے۔
- توکل، رجوع اور فیصلہ اللہ کے سپرد کرنے کا سبق ہے۔
- ظاہر اور پوشیدہ خطاؤں کی مغفرت مانگنی چاہیے۔
