صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۷ - اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم سے آگے نہ بڑھو

اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم سے آگے نہ بڑھو: آواز بلند کرنے والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۴۷

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُمْ ، أَنَّهُ قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمِّرْ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ ، وَقَالَ عُمَرُ : بَلْ أَمِّرْ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا أَرَدْتَ إِلَى أَوْ إِلَّا خِلَافِي ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ ، فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ سورة الحجرات آية 1 ، حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ .

عبداللہ بن زبیر روایت:

قبیلہ بنی تمیم کے سواروں کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان کا امیر آپ قعقاع بن معبد کو بنا دیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا بلکہ اقرع بن حابس کو امیر بنائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مقصد تو صرف میری مخالفت ہی کرنا ہے۔عمر نے کہا کہ میں نے آپ کے خلاف کرنے کی غرض سے یہ نہیں کہا ہے۔ اس پر دونوں میں بحث چلی گئی اور آواز بھی بلند ہو گئی۔ اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدى الله ورسوله» کہ ”اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے رسول سے پہلے کسی کام میں جلدی مت کیا کرو۔“ آخر آیت تک۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کے سامنے ادب اور جلد بازی سے بچنا ہے۔ بنی تمیم کا وفد آیا تو ابو بکرؓ اور عمرؓ نے امیر مقرر کرنے کے بارے میں اپنی اپنی رائے دی۔ بات بحث تک پہنچی اور آوازیں بلند ہو گئیں۔ اسی موقع پر آیت نازل ہوئی کہ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ یہاں حدیث یہ نہیں کہہ رہی کہ مشورہ دینا منع ہے، بلکہ یہ بتا رہی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی موجودگی میں بات کرنے کا انداز بہت محتاط ہونا چاہیے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا ادب، اسلامی مشاورت، اور آواز پست رکھنے کا سبق اس روایت میں صاف نظر آتا ہے۔ یہ حدیث روزمرہ گفتگو میں بھی ہمیں وقار، نرم لہجہ، اور دین کے معاملے میں جلدی نہ کرنے کی یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی معاملے میں رائے دیتے وقت ادب لازم ہے۔
  • اختلاف ہو تو آواز بلند کرنے سے بچنا چاہیے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے صحابہ بھی بہت محتاط رہنے کی ہدایت پاتے تھے۔
  • مشورہ اچھا عمل ہے، مگر اس کا انداز بھی درست ہونا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں