صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کا ادب اور ثابت بن قیسؓ کی بشارت
نبی صلى الله عليه وسلم کا ادب: ثابت بن قیسؓ کی حدیث اور اہل جنت کی بشارت
صحیح بخاری : ۴۸۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۴۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ ، فَأَتَاهُ ، فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ : شَرٌّ كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، قَالَ : كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ مُوسَى : فَرَجَعَ إِلَيْهِ الْمَرَّةَ الْآخِرَةَ بِبِشَارَةٍ عَظِيمَةٍ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِ ، فَقُلْ لَهُ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَلَكِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ پھر وہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے دیکھا کہ وہ گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں پوچھا کیا حال ہے؟ کہا کہ برا حال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے مقابلہ میں بلند آواز سے بولا کرتا تھا اب سارے نیک عمل اکارت ہوئے اور اہل دوزخ میں قرار دے دیا گیا ہوں۔وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس کی اطلاع آپ کو دی۔ موسیٰ بن انس نے بیان کیا کہ وہ شخص اب دوبارہ ان کے لیے ایک عظیم بشارت لے کر ان کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ تم اہل دوزخ میں سے نہیں ہو بلکہ تم اہل جنت میں سے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۶ کا خلاصہ
یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کے ادب اور صحابہ کے دل میں موجود ایمان کی حساسیت کو بہت صاف انداز میں دکھاتی ہے۔ ثابت بن قیسؓ کو یہ فکر ہوئی کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی آواز سے بلند بولتے تھے، اس لیے ان کے نیک عمل ضائع ہو گئے ہوں گے اور وہ اہل دوزخ میں شامل ہو گئے ہوں گے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ صحابی اپنے عمل کے بارے میں بے فکر نہیں تھے، بلکہ قرآن کے حکم کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی غیر حاضری محسوس کی، حال پوچھوایا، پھر انہیں بڑی خوشخبری دی کہ وہ اہل دوزخ میں سے نہیں بلکہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یہ ثابت بن قیسؓ کی حدیث ہمیں نبی صلى الله عليه وسلم کا احترام، اپنی غلطی پر خوف، اور اللہ کی رحمت سے امید سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کا ادب ایمان والے کے دل میں خاص جگہ رکھتا ہے۔
- اپنے عمل کے بارے میں فکر کرنا صحابہ کے مزاج کا حصہ تھا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم اپنے ساتھیوں کی غیر حاضری اور حال کا خیال رکھتے تھے۔
- خوف کے ساتھ اللہ کی رحمت سے امید بھی رکھنی چاہیے۔
