صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۷ - موسیٰ علیہ السلام اور ملک الموت کا واقعہ

موسیٰ علیہ السلام اور ملک الموت: موت کی حقیقت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۰۷

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعَرَةٍ سَنَةٌ ، قَالَ : أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَاذَا ، قَالَ : ثُمَّ الْمَوْتُ ، قَالَ : فَالْآنَ ، قَالَ : فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ ، قَالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .

ابوہریرہ روایت:

اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملک الموت کو بھیجا۔ جب ملک الموت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے انہیں چانٹا مارا (کیونکہ وہ انسان کی صورت میں آیا تھا) ملک الموت ‘ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں واپس ہوئے اور عرض کیا کہ تو نے اپنے ایک ایسے بندے کے پاس مجھے بھیجا جو موت کے لیے تیار نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، ان کے ہاتھ میں جتنے بال اس کے آ جائیں ان میں سے ہر بال کے بدلے ایک سال کی عمر انہیں دی جائے گی (ملک الموت دوبارہ آئے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سنایا) موسیٰ علیہ السلام بولے: اے رب! پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر موت ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پھر ابھی کیوں نہ آ جائے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ بیت المقدس سے مجھے اتنا قریب کر دیا جائے کہ (جہاں ان کی قبر ہو وہاں سے) اگر کوئی پتھر پھینکے تو وہ بیت المقدس تک پہنچ سکے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں وہاں موجود ہوتا تو بیت المقدس میں ‘ میں تمہیں ان کی قبر دکھاتا جو راستے کے کنارے پر ہے ‘ ریت کے سرخ ٹیلے سے نیچے۔عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملک الموت کے آنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ حدیث کے مطابق جب ملک الموت انسانی صورت میں آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے انہیں چانٹا مارا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں دوبارہ بھیجا گیا اور عمر بڑھانے کی پیشکش بتائی گئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ جواب ملا کہ پھر موت ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر ابھی کیوں نہ ہو۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ موت ہر حال میں آنے والی ہے۔ لمبی عمر بھی آخر موت پر ہی ختم ہوتی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آخر میں مقدس زمین کے قریب ہونے کی دعا کی، جس سے نیک مقامات سے محبت کا پہلو بھی معلوم ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • موت ہر انسان کے لیے مقرر حقیقت ہے۔
  • لمبی عمر بھی آخرکار موت کو نہیں ٹالتی۔
  • انبیاء علیہم السلام اللہ سے دعا کرتے تھے۔
  • نیک جگہوں سے محبت ایک اچھا جذبہ ہو سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں