صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۶ - انبیاء علیہم السلام اور بکریاں چرانے کی حکمت
ہر نبی نے بکریاں چرائیں: عاجزی اور سادگی کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۰۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْنِي الْكَبَاثَ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ ، قَالُوا : أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ ، قَالَ : وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ رَعَاهَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ایک مرتبہ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (سفر میں) پیلو کے پھل توڑنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سیاہ ہوں انہیں توڑو ‘ کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: کیا آپ نے کبھی بکریاں چرائی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۶ کا خلاصہ
یہ حدیث ایک عام سے موقع پر بڑی خوبصورت بات بتاتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیلو کے پھل توڑ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سیاہ پھل توڑو، کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ اس حدیث کا اصل موضوع عاجزی، سادگی اور عملی زندگی کا تجربہ ہے۔ بکریاں چرانا ایک سادہ کام ہے، مگر اس میں صبر، دیکھ بھال اور ذمہ داری بھی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی عام زندگی کے کاموں سے گزرے، تاکہ وہ لوگوں کو بہتر انداز سے سمجھ سکیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سادہ کام انسان کی شان کم نہیں کرتے۔
- ذمہ داری اور صبر عملی زندگی سے بھی سیکھے جاتے ہیں۔
- انبیاء علیہم السلام نے عاجزی والی زندگی گزاری۔
- تجربہ انسان کو لوگوں کی رہنمائی کے قابل بناتا ہے۔
