صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۲ - انبیاء کی محنت اور سادگی
بکریاں چرانے والی حدیث: انبیاء کی محنت اور عاجزی
صحیح بخاری : ۲۲۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۶۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : وَأَنْتَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پوچھا کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا کہ ہاں! کبھی میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی تنخواہ پر چرایا کرتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت سادہ مگر گہری بات بتائی کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی اجرت پر چرایا کرتا تھا۔ اس حدیث سے حلال روزی، محنت کی عزت اور عاجزی کا پیغام ملتا ہے۔ بکریاں چرانا بظاہر عام کام ہے، مگر نبیوں نے اسے کیا۔ اس لیے کوئی حلال کام چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے۔ محنت کرنے والا آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتا ہے اور لوگوں پر بوجھ نہیں بنتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حلال محنت عزت والی چیز ہے، چاہے کام عام سا ہی کیوں نہ ہو۔
- انبیاء علیہم السلام کی زندگی میں عاجزی اور محنت کا نمونہ ملتا ہے۔
- اپنی روزی کمانے کے لیے حلال اجرت پر کام کرنا درست ہے۔
- مسلمان کو کسی حلال پیشے کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
