صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۳ - ماہر راہبر کو اجرت پر رکھنا

ہجرت کا راہبر: ماہر آدمی کو اجرت پر رکھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۶۳

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، "وَاسْتَأْجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا ، الْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ ، قَدْ غَمَسَ يَمِينَ حِلْفٍ فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ فَأَمِنَاهُ ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا صَبِيحَةَ لَيَالٍ ثَلَاثٍ ، فَارْتَحَلَا وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَالدَّلِيلُ الدِّيلِيُّ ، فَأَخَذَ بِهِمْ أَسْفَلَ مَكَّةَ وَهُوَ طَرِيقُ السَّاحِلِ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (ہجرت کرتے وقت) بنو دیل کے ایک مرد کو نوکر رکھا جو بنو عبد بن عدی کے خاندان سے تھا۔ اور اسے بطور ماہر راہبر مزدوری پر رکھا تھا (حدیث کے لفظ) «خريت» کے معنی راہبری میں ماہر کے ہیں۔ اس نے اپنا ہاتھ پانی وغیرہ میں ڈبو کر عاص بن وائل کے خاندان سے عہد کیا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے دین پر تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس پر بھروسہ تھا۔ اسی لیے اپنی سواریاں انہوں نے اسے دے دیں اور غار ثور پر تین رات کے بعد اس سے ملنے کی تاکید کی تھی۔وہ شخص تین راتوں کے گزرتے ہی صبح کو دونوں حضرات کی سواریاں لے کر وہاں حاضر ہو گیا۔ اس کے بعد یہ حضرات وہاں سے عامر بن فہیرہ اور اس دیلی راہبر کو ساتھ لے کر چلے۔ یہ شخص ساحل کے کنارے سے آپ کو لے کر چلا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۳ کا خلاصہ

اس روایت میں ہجرت کے سفر کا ایک عملی پہلو بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو دیل کے ایک ماہر راہبر کو مزدوری پر رکھا۔ حدیث میں اسے خریت کہا گیا، یعنی راستہ دکھانے میں ماہر۔ وہ شخص اس وقت قریش کے دین پر تھا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کے کام پر بھروسہ تھا۔ انہوں نے اپنی سواریاں اس کے حوالے کیں اور غار ثور پر تین رات کے بعد ملنے کا وعدہ کیا۔ اس سے اجرت پر ماہر گائیڈ لینے، کام کے لیے اہل آدمی چننے، اور طے شدہ وعدہ پورا کرنے کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کام کے لیے ماہر اور قابل شخص کو اجرت پر رکھنا درست ہے۔
  • معاملات میں اعتماد، وعدہ اور وقت کی پابندی بہت اہم ہیں۔
  • اہم سفر یا کام میں راستہ جاننے والے فرد سے مدد لی جا سکتی ہے۔
  • اجرت کا معاملہ ذمہ داری اور امانت کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں