صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۴ - امانت دار راہبر اور طے شدہ کام
ماہر راہبر پر اعتماد: اجرت اور امانت کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۲۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۶۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ هَادِيًا خِرِّيتًا وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو دیل کے ایک ماہر راہبر سے مزدوری طے کر لی تھی۔ وہ شخص کفار قریش کے دین پر تھا۔ ان دونوں حضرات نے اپنی دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر دی تھیں اور کہہ دیا تھا کہ تین راتوں کے بعد صبح سویرے ہی سواروں کے ساتھ غار ثور پر آ جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو دیل کے ایک شخص کو راستہ دکھانے کے لیے اجرت پر رکھا۔ وہ راستوں کا ماہر تھا، اگرچہ اس وقت کفار قریش کے دین پر تھا۔ دونوں حضرات نے اپنی اونٹنیاں اس کے حوالے کیں اور اسے تین راتوں کے بعد صبح غار ثور پر آنے کا وقت دیا۔ اس حدیث کا مرکز اجرت، اعتماد اور ذمہ داری ہے۔ کام اسی شخص کو دینا چاہیے جو اس کام کا ماہر ہو اور جس سے طے شدہ بات پوری ہونے کی امید ہو۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بڑے کاموں میں منصوبہ بندی، وقت کی پابندی اور امانت داری بہت ضروری ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہم کام کے لیے ماہر شخص کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
- اجرت کے معاملے میں کام، وقت اور ذمہ داری واضح ہونی چاہیے۔
- امانت سپرد کرتے وقت بھروسہ اور قابلیت دیکھی جاتی ہے۔
- طے شدہ وعدے پر عمل عملی دیانت کا حصہ ہے۔
