صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۵ - تکلیف پر صبر اور موسیٰ علیہ السلام کا ذکر
تکلیف دہ باتوں پر صبر: موسیٰ علیہ السلام کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۰۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا ، فَقَالَ : رَجُلٌ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَغَضِبَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهَ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مال تقسیم کیا ‘ ایک شخص نے کہا کہ یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی رضا جوئی کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار دیکھے۔ پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ‘ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی تھی مگر انہوں نے صبر کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے بارے میں سخت بات کہی۔ یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا، مگر آپ نے موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی، پھر بھی انہوں نے صبر کیا۔ یہاں اصل سبق صبر اور زبان کی احتیاط ہے۔ کسی کے فیصلے پر الزام لگانا، خاص طور پر نبی کے فیصلے پر، بہت بڑی بے ادبی ہے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ تکلیف پہنچنے پر نبیوں کا طریقہ صبر کا تھا۔ انسان کو چاہیے کہ غصے کے وقت بھی اپنے آپ کو سنبھالے، اور دوسروں کی بات سے دل دکھے تو صبر کو اختیار کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بے سوچے الزام لگانا دل دکھانے والی بات ہے۔
- تکلیف کے وقت صبر انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے۔
- غصہ آنا انسانی بات ہے، مگر جواب میں صبر بہتر ہے۔
- دینی قیادت اور نبی کے فیصلے کے بارے میں زبان محتاط ہونی چاہیے۔
