صحیح بخاری حدیث ۳۴۳۴ - قریشی خواتین کی شفقت اور امانت
قریشی خواتین کی شفقت اور امانت کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۳۴
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ ، تَابَعَهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والیوں (عربی خواتین) میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں۔ اپنے بچے پر سب سے زیادہ محبت و شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی سب سے بہتر نگراں و محافظ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے تھے کہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی تھیں۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو زہری کے بھتیجے اور اسحاق کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں قریشی خواتین کی دو نمایاں خوبیوں کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی عرب خواتین میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں۔ پھر ان کی خوبی یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے بچے پر زیادہ محبت اور شفقت کرنے والی ہیں، اور اپنے شوہر کے مال و سامان کی بہتر نگراں ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کے بعد یہ بھی کہا کہ مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئیں۔ اس حدیث میں خاندان، بچے کی پرورش، اور گھر کے مال کی امانت داری کا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے اندر شفقت اور ذمہ داری دونوں قابل تعریف صفات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں پر شفقت ایک پسندیدہ صفت ہے۔
- شوہر کے مال کی حفاظت امانت داری میں شامل ہے۔
- گھر کی ذمہ داری کو محبت اور احتیاط کے ساتھ نبھانا چاہیے۔
