صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۲ - نبی صلى الله عليه وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کی قربت

نبی کریم صلى الله عليه وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کی قربت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۴۲

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ وَالْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ " .

ابوہریرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں ابن مریم علیہما السلام سے دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قریب ہوں، انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں اور میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کے تعلق کا خاص بیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ابن مریم سے سب لوگوں کے مقابلے میں زیادہ قریب ہوں۔ پھر فرمایا کہ انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں، اور میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ حدیث کا پیغام مختصر مگر بہت اہم ہے۔ اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا مقام بھی ظاہر ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے خاص نسبت بھی بیان ہوتی ہے۔ اس حدیث میں کسی اضافی تاریخی تفصیل کی ضرورت نہیں، کیونکہ اصل متن ہی واضح ہے کہ دونوں عظیم انبیاء کے درمیان کوئی نبی نہیں آیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام سے خاص قربت بیان فرمائی۔
  • انبیاء علیہم السلام کو علاتی بھائیوں کی مثال سے سمجھایا گیا۔
  • محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں