صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۱ - ابن مریم اور دجال کے حلیے کی وضاحت

عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کے حلیے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۴۱

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ مَا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِعِيسَى أَحْمَرُ وَلَكِنْ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ، قَالُوا : ابْنُ مَرْيَمَ فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ، قَالُوا : هَذَا الدَّجَّالُ وَأَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ " قَالَ الزُّهْرِيُّ : رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ هَلَكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .

´ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا، کہا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ سرخ تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اپنے کو دیکھا، اس وقت مجھے ایک صاحب نظر آئے جو گندمی رنگ لٹکے ہوئے بال والے تھے، دو آدمیوں کے درمیان ان کا سہارا لیے ہوئے اور سر سے پانی صاف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ ابن مریم علیہما السلام ہیں۔ اس پر میں نے انہیں غور سے دیکھا تو مجھے ایک اور شخص بھی دکھائی دیا جو سرخ، موٹا، سر کے بال مڑے ہوئے اور داہنی آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے اٹھا ہوا انار ہو، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس سے شکل و صورت میں ابن قطن بہت زیادہ مشابہ تھا۔ زہری نے کہا کہ یہ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا جو جاہلیت کے زمانہ میں مر گیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کے حلیے سے متعلق وضاحت ہے۔ راوی نے قسم کے ساتھ بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ سرخ تھے، بلکہ آپ نے خواب میں بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ایک گندمی رنگ، سیدھے لٹکتے بالوں والے شخص کو دیکھا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لیے ہوئے تھے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ فرشتوں نے بتایا کہ یہ ابن مریم ہیں۔ پھر ایک سرخ، موٹا، مڑے ہوئے بالوں والا شخص دکھا جو داہنی آنکھ سے کانا تھا، اس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ دجال ہے۔ اس حدیث میں الفاظ کی صحت اور دینی روایت میں احتیاط کا سبق بھی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت بہت احتیاط کرنی چاہیے۔
  • عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں راوی نے غلط نسبت کی اصلاح کی۔
  • دجال کی داہنی آنکھ اور حلیے کی نشانی بیان ہوئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں