صحیح بخاری حدیث ۳۴۵۳ - قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع
قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۵۳
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ وَيُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : " لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : وَهُوَ كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا " .
´مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو معمر اور یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا، اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کو ان کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۵۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت سنجیدہ نصیحت پر مشتمل ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم پر نزع کی حالت تھی، آپ صلى الله عليه وسلم چادر چہرہ مبارک پر ڈالتے اور تکلیف بڑھتی تو ہٹا دیتے۔ اسی حالت میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم اپنی امت کو ان کے عمل سے ڈرانا چاہتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع قبر پر سجدہ، قبروں کو مسجد بنانا، اور توحید کی حفاظت ہے۔ حدیث میں جو بات آئی ہے اسی پر رکنا چاہیے۔ یہ روایت عبادت کو صرف اللہ کے لیے رکھنے کی سخت یاد دہانی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے سختی کے ساتھ ڈرایا گیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آخری وقت میں بھی امت کی اصلاح کی فکر فرمائی۔
- عبادت اور سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے۔
- پچھلی امتوں کے غلط عمل سے بچنے کی تنبیہ کی گئی۔
