صحیح بخاری حدیث ۳۴۷۲ - سونے کے گھڑے کا فیصلہ

سونے کے گھڑے کی حدیث: خرید و فروخت میں دیانت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۷۲

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ ، فَقَالَ لَهُ : الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ ، وَقَالَ : الَّذِي لَهُ الْأَرْضُ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ أَلَكُمَا وَلَدٌ ، قَالَ : أَحَدُهُمَا لِي غُلَامٌ ، وَقَالَ : الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ ، قَالَ : أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے دوسرے شخص سے مکان خریدا اور مکان کے خریدار کو اس مکان میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا جس سے وہ مکان اس نے خریدا تھا اس سے اس نے کہا بھائی گھڑا لے جا۔ کیونکہ میں نے تم سے گھر خریدا ہے سونا نہیں خریدا تھا۔ لیکن پہلے مالک نے کہا کہ میں نے گھر کو ان تمام چیزوں سمیت تمہیں بیچ دیا تھا جو اس کے اندر موجود ہوں۔یہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا کیا تمہارے کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرے ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے کہا کہ لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو اور سونا انہیں پر خرچ کر دو اور خیرات بھی کر دو۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۴۷۲ کا خلاصہ

یہ حدیث دیانت داری اور انصاف کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہے۔ ایک شخص نے مکان خریدا، پھر اسے اس میں سونے کا گھڑا ملا۔ خریدار نے کہا کہ میں نے مکان خریدا ہے، سونا نہیں؛ اس لیے سونا تم لے لو۔ پہلے مالک نے کہا کہ میں نے مکان اور اس کے اندر کی چیزیں بیچ دی تھیں۔ دونوں جھگڑا کرنے نہیں بلکہ حق واضح کرنے کے لیے فیصلہ کرنے والے کے پاس گئے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ایک کے لڑکے اور دوسرے کی لڑکی کا نکاح کر دیا جائے، سونا ان پر خرچ کیا جائے اور خیرات بھی کی جائے۔ اس حدیث میں دیانت، حق پسندی اور مال کو خیر میں لگانے کا سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خرید و فروخت میں دیانت داری بہت اہم ہے۔
  • مال مل جائے تو فوراً اپنے لیے حلال سمجھ لینا درست نہیں۔
  • اختلاف ہو تو انصاف پسند فیصلے کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
  • مال کو گھر کی بھلائی اور خیرات دونوں میں لگایا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں