صحیح بخاری حدیث ۳۴۷۷ - قوم کے لیے مغفرت کی دعا

اللهم اغفر لقومي: ظلم کے جواب میں دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۷۷

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي " نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " .

شقیق بن سلمہ روایت:

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا میں گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ آپ بنی اسرائیل کے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ ان کی قوم نے انہیں مارا اور خون آلود کر دیا۔ لیکن وہ نبی خون صاف کرتے جاتے اور یہ دعا کرتے «اللهم اغفر لقومي» کہ اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما۔ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک نبی کا واقعہ بیان فرمایا۔ ان کی قوم نے انہیں مارا، یہاں تک کہ وہ خون آلود ہو گئے۔ مگر وہ نبی اپنے چہرے سے خون صاف کرتے جاتے اور کہتے: اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما، یہ لوگ جانتے نہیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام صبر، نرمی اور معافی ہے۔ جس شخص پر ظلم ہو، اس کے لیے غصہ آنا فطری بات ہے، مگر انبیاء علیہم السلام کا اخلاق یہ تھا کہ وہ ہدایت اور مغفرت کی دعا کرتے تھے۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ بدسلوکی کے جواب میں بھی دل کو قابو میں رکھنا بڑی نیکی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظلم سہنے کے باوجود بددعا کے بجائے دعا کرنا بلند اخلاق ہے۔
  • غصے کے وقت زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
  • انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں صبر اور نرمی نمایاں تھی۔
  • نادانی کی وجہ سے غلطی کرنے والوں کے لیے ہدایت کی امید رکھی جا سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں