صحیح بخاری حدیث ۶۹۲۹ - قوم کے لیے بخشش کی دعا

رب اغفر لقومی: معافی اور صبر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۲۹

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ ، فَأَدْمَوْهُ ، فَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

جیسے میں (اس وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ ایک پیغمبر (نوح علیہ السلام) کی حکایت بیان کر رہے تھے ان کی قوم والوں نے ان کو اتنا مارا کہ لہولہان کر دیا وہ اپنے منہ سے خون پونچھتے تھے اور یوں دعا کرتے جاتے «رب اغفر لقومي، فإنهم لا يعلمون‏.‏» ”پروردگار میری قوم والوں کو بخش دے وہ نادان ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۹۲۹ کا خلاصہ

یہ حدیث معافی، صبر اور دعوت کے بلند اخلاق کو بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک نبی کا حال سنایا کہ ان کی قوم نے انہیں اتنا مارا کہ وہ لہولہان ہو گئے۔ اس سخت تکلیف کے باوجود وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے جاتے اور دعا کرتے: «رب اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون» یعنی اے میرے رب! میری قوم کو بخش دے، وہ نہیں جانتے۔ اس حدیث میں تکلیف کے وقت بدلہ لینے کی بات نہیں، بلکہ ایک نبی کی رحمت بھری دعا دکھائی گئی ہے۔ پیغام یہ ہے کہ دین کے راستے میں اذیت آئے تو زبان سے خیر نکلے، دعا نکلے، اور دل میں قوم کی ہدایت و معافی کی خواہش باقی رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سخت تکلیف میں بھی زبان سے دعا نکلنا انبیاء کا اعلیٰ اخلاق ہے۔
  • نادانی کرنے والوں کے لیے بخشش کی دعا کی جا سکتی ہے۔
  • صبر کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان ظلم کے وقت اپنی زبان کو بچائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں