صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۸ - حاکم کی دغا سب سے سنگین

حاکم کی دغا کی حدیث: عوامی ذمہ داری میں خیانت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۳۸

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ " .

ابوسعید روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا قیامت کے دن جو بلند کیا جائے گا اس کی دغا بازی کے موافق اور کوئی دغا باز اس سے بڑھ کر نہیں جو خلق اللہ کا حاکم ہو کر دغابازی کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۸ کا خلاصہ

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جو اس کی دغا کے موافق بلند کیا جائے گا، اور کوئی دغا باز اس سے بڑھ کر نہیں جو خلق اللہ کا حاکم ہو کر دغا بازی کرے۔ یہ حدیث عہد شکنی کے عمومی مضمون کے ساتھ حکمران کی ذمہ داری کو بھی خاص طور پر بیان کرتی ہے۔ عوام کا حاکم بہت سے لوگوں کے حقوق اور امانت سے وابستہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی دغا کو متن میں بہت بڑا جرم بتایا گیا ہے۔ یہاں دغا کے بقدر جھنڈا بلند ہونے کا ذکر بھی ہے، یعنی دغا کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ اس حدیث سے قیادت میں امانت، انصاف اور وعدے کی پابندی کا سبق ملتا ہے، مگر ہم صرف اسی بات تک محدود رہتے ہیں جو روایت میں موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن جھنڈے کا ذکر ہے۔
  • جھنڈا دغا کے بقدر بلند کیا جائے گا۔
  • عوام کے حاکم کی دغا کو خاص طور پر بہت سنگین بتایا گیا۔
  • قیادت امانت ہے، اس میں خیانت سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں