صحیح بخاری حدیث ۶۹۲۸ - سام علیک کا جواب علیک
سام علیک کا جواب: علیک کہنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۹۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۲۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنَّمَا يَقُولُونَ : سَامٌ عَلَيْكَ ، فَقُلْ عَلَيْكَ " .
عبداللہ بن دینار روایت:
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہودی لوگ جب تم مسلمانوں میں سے کسی کو سلام کرتے ہیں تو «سام عليك.» کہتے ہیں تم بھی جواب میں «عليك» کہا کرو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۹۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا کہ یہودی جب مسلمانوں میں سے کسی کو سلام کرتے ہیں تو وہ «سام عليك» کہتے ہیں، یعنی موت کی بددعا دیتے ہیں۔ ایسے موقع پر جواب میں «عليك» کہا جائے۔ اس حدیث کا اصل موضوع اہل کتاب کے سلام کا جواب ہے۔ یہاں لمبی بحث، بدزبانی یا بددعا کا جواب بددعا سے دینے کی ترغیب نہیں دی گئی، بلکہ ایک مختصر جواب بتایا گیا۔ اس سے مسلمان کو زبان کی حفاظت، معاملہ فہمی اور ضبط کا سبق ملتا ہے۔ اگر لفظ مشتبہ ہو یا سامنے والا خیر کے بجائے شر کا ارادہ رکھتا ہو تو جواب بھی اتنا ہی محدود رکھا جائے جتنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سکھایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشتبہ یا غلط سلام کا جواب مختصر رکھا جائے۔
- زبان کے استعمال میں احتیاط ایمان والے کے وقار کا حصہ ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جواب کے لیے «علیک» کا صاف طریقہ بتایا۔
