صحیح بخاری حدیث ۶۹۲۷ - ہر معاملے میں نرمی پسند ہے
نرمی کی حدیث: اللہ ہر کام میں نرمی پسند فرماتا ہے
صحیح بخاری : ۶۹۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ ، قُلْتُ : أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : وَعَلَيْكُمْ " .
عائشہ روایت:
یہود میں سے چند لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت چاہی جب آئے تو کہنے لگے «السام عليك.» میں نے جواب میں یوں کہا «عليكم السام واللعنة.»۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرتا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے ان کا کہنا نہیں سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی تو جواب دے دیا «وعليكم»۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث نرمی کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے۔ چند یہودی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے «السام عليك» کہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے جواب میں سخت الفاظ کہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اللہ نرمی کرنے والا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ آپ نے ان کی بات نہیں سنی؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی «وعليكم» کہہ دیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی بدزبانی کرے تب بھی مسلمان کی زبان قابو میں رہنی چاہیے۔ نرمی کمزوری نہیں، بلکہ سمجھداری اور نبوی اخلاق کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت بات کا جواب بھی قابو اور نرمی سے دیا جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بددعا کے جواب میں مختصر لفظ «وعلیکم» کافی سمجھا۔
- اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔
