صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۱ - چہرے پر ضرب اور داغ سے بچنے کا حکم

منہ پر مارنے اور داغ دینے سے ممانعت: حدیث کا پیغام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۵۱

وحدثني هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۱ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے همان مضمون کو بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور چہرے پر داغ دینے سے منع فرمایا۔ چہرے پر مارنے کی حدیث انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ طاقت ملنے پر بھی حدود قائم رہنی چاہییں۔ تربیت، سزا، غصہ یا جانوروں پر نشان لگانے کا معاملہ ہو، حدیث چہرے کو نشانہ بنانے سے روکتی ہے۔ اس روایت کا فائدہ یہ ہے کہ وہی حکم دوسری سند سے بھی نقل ہوا، جس سے مضمون مضبوط طور پر سامنے آتا ہے۔ ہمیں متن سے یہی سبق لینا چاہیے کہ چہرے کے ساتھ سختی اور اذیت والا معاملہ نہ کیا جائے۔ اس میں روزمرہ زندگی کے لیے بہت واضح اخلاقی رہنمائی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چہرے پر مارنا نبوی ممانعت کے خلاف ہے۔
  • چہرے پر داغ لگانا بھی منع کیا گیا ہے۔
  • طاقت یا اختیار کے وقت حد سے بڑھنا درست نہیں۔
  • ایک ہی مضمون کی تکرار حکم کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں