صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۰ - چہرے پر مارنے اور داغ دینے کی ممانعت

چہرے پر مارنے کی حدیث: نرمی اور احتیاط کا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۵۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ ، وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ " .

جابر روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پر مارنے سے اور منہ پر داغ دینے سے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پر مارنے اور منہ پر داغ دینے سے منع فرمایا۔ چہرے پر مارنے کی حدیث بہت سیدھی بات سکھاتی ہے: چہرہ جسم کا حساس اور نمایاں حصہ ہے، اس لیے اسے مارنے یا داغنے کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ متن میں انسان یا جانور کی الگ تفصیل نہیں، بلکہ ممانعت کے الفاظ عام انداز میں آئے ہیں۔ بعد کی روایات میں جانور کے منہ پر داغ کا واقعہ بھی آتا ہے، جس سے اس ممانعت کی سنجیدگی مزید واضح ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کو غصے، تربیت یا نشان لگانے کے وقت حد سے آگے نہیں جانا چاہیے اور چہرے کو اذیت سے بچانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چہرے پر مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • چہرے پر داغ دینے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
  • غصے یا نشان لگانے میں حد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • حدیث چہرے کے معاملے میں نرمی اور احتیاط سکھاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں