صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۲ - گدھے کے چہرے پر داغ لگانے والے پر لعنت
جانور کے منہ پر داغ لگانا: حدیث میں سخت تنبیہ
صحیح مسلم : ۵۵۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۵۲
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ پر داغ دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لعنت کرے اللہ اس پر جس نے اس کو داغا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اسے داغا۔ جانور کے منہ پر داغ لگانے کی حدیث بہت واضح انداز میں بتاتی ہے کہ جانور کے ساتھ سختی بھی حدود کے اندر ہونی چاہیے۔ اگر نشان لگانے کی ضرورت ہو تو چہرہ اس کے لیے جگہ نہیں۔ یہ بات پچھلی روایت سے بھی ملتی ہے جس میں چہرے پر مارنے اور داغ دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں الفاظ سخت ہیں، اس لیے ہمیں جانوروں کے ساتھ معاملے میں خاص احتیاط کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جانور کے چہرے پر داغ لگانے پر سخت تنبیہ آئی ہے۔
- چہرہ داغ یا اذیت دینے کی جگہ نہیں۔
- جانوروں کے ساتھ معاملہ بھی دینی اخلاق کا حصہ ہے۔
- حدیث پچھلی ممانعت کو عملی واقعے کے ذریعے واضح کرتی ہے۔
