صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۳ - چہرے سے دور داغ لگانے کا طریقہ
جانور کو داغ لگانا ہو تو چہرے سے دور: حدیث کا سبق
صحیح مسلم : ۵۵۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۵۳
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَوَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ " ، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے منہ پر داغ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو برا کہا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو داغ نہیں دیتا مگر اس جگہ جو منہ سے بہت دور ہے۔“ (جیسے پٹھا وغیرہ) اور حکم کیا اپنے گدھے کو داغ دینے کا تو داغ دیا گیا پٹھوں پر اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے پٹھوں پر داغ دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برا کہا۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی قسم، میں داغ نہیں دیتا مگر ایسی جگہ جو چہرے سے بہت دور ہو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گدھے کو پٹھوں کے پاس داغ دینے کا حکم دیا۔ جانور کو داغ لگانے کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نشان لگانے کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر چہرے کو اس سے بچایا جائے گا۔ یہ روایت توازن سکھاتی ہے: ضرورت کا کام کیا گیا، لیکن تکلیف اور بدصورتی والی جگہ سے بچا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چہرے پر داغ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔
- ضرورت کے وقت جانور کو چہرے سے دور جگہ پر نشان لگایا گیا۔
- دینی رہنمائی میں ضرورت اور نرمی دونوں کا خیال ہے۔
- جانور کی شناخت کے لیے بھی چہرے کو بچانا چاہیے۔
