صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۸ - صدقہ کے اونٹوں پر نشان لگانا
صدقہ کے اونٹوں پر نشان لگانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۵۸
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : " رَأَيْتُ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيسَمَ ، وَهُوَ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ " .
انس بن مالک روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں داغ کا ہتھیار دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کے اونٹوں پر داغ دے رہے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں داغ کا ہتھیار دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کے اونٹوں پر داغ لگا رہے تھے۔ صدقہ کے اونٹوں کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی پہچان اور نظم کے لیے نشان لگانے کا عمل کیا گیا۔ متن میں یہ بات خاص طور پر صدقہ کے اونٹوں کے بارے میں ہے، اس لیے اسے اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ پچھلی روایات میں چہرے پر داغ دینے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ یہاں چہرے کا ذکر نہیں۔ اس لیے ایک مسلمان کو دونوں باتیں ساتھ سمجھنی چاہییں: جانور کی شناخت ہو سکتی ہے، مگر اذیت اور ممنوع جگہ سے بچا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں کو نشان لگایا۔
- سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے داغ کا آلہ آپ کے ہاتھ میں دیکھا۔
- حدیث جانوروں کی شناخت اور نظم کے پہلو کو بیان کرتی ہے۔
- چہرے پر داغ کی ممانعت کو اس عمل سے الگ سمجھنا چاہیے۔
