صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۷ - بکریوں کو نشان لگانے کی ہم معنی روایت
بکریوں پر نشان لگانا: اسی مضمون کی روایت
صحیح مسلم : ۵۵۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۵۷
وحدثينيه يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَحْيَي ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ كلهم ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۵۷ کا خلاصہ
یہ روایت شعبہ رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ پچھلی روایت جیسا مضمون بیان کرتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کو داغ رہے تھے، اور پہلے متن میں کانوں کا ذکر غالب گمان کے طور پر آیا ہے۔ چونکہ اس حدیث کا ترجمہ بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس لیے اس کی وضاحت میں نئی بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔ جانوروں پر نشان لگانے کی حدیث ہمیں صرف اتنا بتاتی ہے کہ جانوروں کی شناخت کے لیے نشان لگانے کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اسی باب کی دوسری روایات چہرے پر داغ سے منع کرتی ہیں، اس لیے نشان کی جگہ اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی روایت کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- جانوروں کی شناخت کے لیے نشان لگانے کا ذکر آیا ہے۔
- متن میں جو بات ہو اسی تک وضاحت کو محدود رکھنا چاہیے۔
- چہرے پر داغ کی ممانعت کو الگ روایات کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
